کپتان کا ایک اور خواب پورا ہو گیا

پردیسیو! مبارک ہوعمران خان نے اپنا وعدہ پورا کیا۔رائٹ ٹو ووٹ کا بل قومی اسمبلی نے منطور کر لیا ہے۔اب یہ بل سینٹ میں جائے گا جہاں یقینا اسے منظوری مل جائے گی۔ اب کوئی بھی پاکستانی کسی بھی ملک میں بیٹھ کر اپنے ملک کے انتخابات میں حصہ لے سکے گا۔بھئی اوورسیز بہن بھائیوں سے پیسہ لینا منظور ہے، ووٹ کیوں نہیں ۔

ہمارے اوورسیز بہن بھائی بھی اکثر گلہ کرتے تھے کہ پاکستان ہماری بھی ملک ہے۔ ہم بھی اس کا حصہ ہیں تو پھر ہمیں ووٹ دینے کا اختیار کیوں نہیں ۔دوستو! یہ اوورسیز پاکستانی کوئی تین چار لاکھ نہیں ہیں بلکہ پورےنوے لاکھ پاکستانی ہیں جو اس دوسرے ملکوں میں بیٹھے ہیں۔ اگر میں کیٹاگورکلی آپ کو بتاؤں تو اس وقت چھبیس لاکھ سعودی عرب میں، پندرہ لاکھ یو اے ای میں، برطانیہ میں بارہ لاکھ اورامریکہ میں 4لاکھ تک پاکستانی رہتے ہیں۔

یہ ابھی صرف چند ممالک ہیں۔ ابھی اور بھی بہت سے ممالک باقی ہیں۔ اپوزیشنز کا خیال ہے کہ جو لوگ ملک سے باہر رہتے ہیں ان کو ملک کے حالات کا کیا پتہ۔ اس لیے انہیں ووٹ دینے کا کوئی حق نہیں ملنا چاہئے۔ دوستو اس بار پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک بھاری ریمیٹنس پاکستان میں آیا ہے جو ہمارے انہی اوورسیز بہن بھائیوں نے بھیجا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری ان بہن بھائیوں کو کپتان کی قیادت پہ پورا یقین ہے۔