لز ٹرس۔۔۔ برطانیہ کی نئی وزیراعظم

لز ٹرس،برطانیہ کی نئی وزیراعظم منتخب ہوگئی ہیں۔انہوں نے بھارتی نژاد رشی سوناک کو شکست دی ہے ۔ لز ٹرس برطانیہ کے نئے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گی۔ ریٹرننگ افسر نے حکمران کنزرویٹو جماعت کے نئے قائد کا اعلان کیا۔لز ٹرس کو 81326 ووٹ ملے جبکہ ان کے مد مقابل رشی سوناک 60399 ووٹ لے سکے۔لز ٹرس کا کہنا تھا پارٹی کا اعتماد اور سپورٹ کرنے پر شکر گزار ہوں۔

لز ٹرس 1975 میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ریاضی کے پروفیسر اور والدہ ایک نرس تھیں۔جب لز کی عمر چار سال تھی تب ان کی فیملی گلاسگو کے بالکل مغرب میں واقع علاقے پیسلی منتقل ہو گئی تھی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میںانہوں نے فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی ۔شروع میں وہ برطانوی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کی سرگرم کارکن تھیں۔ہ 1994 میں لبرل ڈیموکریٹس کی کانفرنس میں انہوں نے بادشاہت کے نظام کے خاتمے کے حق میں بات کی تھی۔

ٹریسا مے کی وزارت عظمیٰ کے دوران انہوں نے وزارت خزانہ کی چیف سیکرٹری بننے سے پہلے سیکرٹری انصاف کے طور پر کام کیاتھا۔ بورس جانسن 2019 میں وزیر اعظم بنے تو ان کو وزیر برائے بین الاقوامی تجارت کے عہدے پر منتقل کر دیا گیاتھا۔انہیں یوکرائن میں لڑنے کے خواہشمند برطانوی لوگوں کی پشت پناہی کرنے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑاتھا۔2021 میں 46 سال کی عمر میں وہ حکومت کے سب سے سینئر عہدوں میں سے ایک پر فائز ہو گئیں۔اس عہدے میں انہوں نے بریگزٹ کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ کے معاہدے کے کچھ حصوں کو ختم کر کے، شمالی آئرلینڈ پروٹوکول کے پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے دو برطانوی ایرانی شہریوں کی رہائی کو یقینی بنایا ۔ جب فروری میں روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھاتو انہوں نے سخت موقف اختیار کیا تھا اور اس بات پر اصرار کیاتھا کہ ولادیمیر پیوتن کی تمام افواج کو یوکرین سے نکال باہر کیا جائے۔پارٹی قیادت کے لیے لز ٹرس کی مہم تنازعات سے پاک نہیں رہی تھی۔ان سے جب پوچھا گیاکہ وہ مہنگائی کے بحران سے کیسے نمٹیں گی،تو انہوں نے کہا وہ ٹیکس کا بوجھ کم کرنے، غیر ضروری رعایتیں نہ دینے کی کوشش کریں گی۔

کچھ لوگوں کی ان کے بارے میں رائے ہے کہ لز ٹرس اپنے لباس کے ذریعے مسز تھیچر کی نقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور ان کی طرح فر کی ٹوپی اور سفید بو پہنتی ہیں۔ اس پرلز ٹرس کاکہنا تھا کہ یہ کافی مایوس کن ہے خواتین سیاستدانوں کا موازنہ ہمیشہ مارگریٹ تھیچر سے کیا جاتا ہے۔