’’حکومت کو آج بھی مشکلات اور چیلنجز درپیش ‘‘

اسلام آباد(رم نیوز)وزیر اعظم پاکستان شہاز شریف نے کہا حکومت سنبھالنےکےبعدکئی چیلنجزکاسامناتھا۔ اتحادی حکومت نےفیصلہ کیاکہ اپنی آئینی مدت پوری کریں گے۔ کچھ ساتھیوں کی رائےتھی کہ انتخابی اصلاحات کرکےالیکشن میں جایاجائے۔مسلسل محنت اوریکسوئی کے ساتھ آگےبڑھیں گے۔سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے کیے معاہدے پر عمل نہیں کیا۔سابق حکومت کے غلط فیصلوں کا خمیازہ آج عوام بھگت رہے ہیں۔تیل اور گیس کی قیمتیں عالمی منڈیوں کے حساب سے رکھیں گے۔اتحادی حکومت میں کچھ کی سوچ حق میں کچھ کی مخالفت میں تھی۔

پہلے سوچ تھی کہ اصلاحات کر کے الیکشن کی طرف جائیں۔ایک ایک کر کے معاہدے کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ سابق حکومت نےآئی ایم ایف سے 17 فیصدسیلزٹیکس لگانےکامعاہدہ کیا۔ اتحادی حکومت نےفیصلہ کیاکہ اپنی آئینی مدت پوری کریں گے۔ساڑھے3سال میں انہیں غریب یاد نہیں آئے۔انہیں شکست مقدر میں نظر آئی تو اچانک تیل کی قیمتیں کم کر دیں۔حکومت کو آج بھی مشکلات اور چیلنجز درپیش ہیں۔چین، سعودی عرب، یو اے ای سمیت دوست ممالک کی بات ہمیشہ کرتا ہوں۔ان ممالک نے مالی طور پر ہمارا ساتھ ہمیشہ دیا۔ سابق حکومت نےآئی ایم ایف سے 30 روپےپٹرولیم لیوی کامعاہدہ کیاتھا۔ماضی میں جھانکنےاوررونےدھونےسےکچھ نہیں ہوگا۔ہمیں اللہ نے بے پناہ قدرتی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ریکوڈک دیکھ لیں اربوں کھربوں کے خزانے ہیں۔اربوں کھربوں کے خزانے ہم آج بھی نکالنے سے قاصر ہیں۔میں دکھی دل کے ساتھ بیان کر رہا ہوں۔

پی ٹی آئی حکومت نےشکست دیکھتےہوئےتیل کی قیمتیں کم کردیں۔ پی ٹی آئی حکومت نےتیل کی مدمیں کوئی رقم مختص نہیں کی۔سابق حکومت نےساڑھے 3 سال قوم کوایک دھیلےکاریلیف نہیں دیا۔ گزشتہ 75 سال میں قیام پاکستان کےمقاصدحاصل نہیں ہوئے۔ چین کب تک ہماری مددکرےگا۔ پاکستان آج مشکل وقت سےگزررہاہے۔ چین نےپاکستان کو 2.3 ارب ڈالرفراہم کرنےکاوعدہ کیاہے۔ چین،سعودی عرب،ترکی سمیت کئی دوست ممالک نےہمیشہ پاکستان کاساتھ دیا۔وہ قومیں آگے نکل گئیں جنہوں نے اتحاد اور یقین کے ساتھ کام کیا۔ماضی پر رونے دھونے کی بجائے فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں بہتری لانی ہے۔اللہ اسی قوم کی تقدیر بدلتا ہے جو خود اپنی تقدیر بدلنے کیلئے اٹھ کھڑی ہوں۔اگر گھبرائیں گے تو کیا کریں گے، مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ریاست بچ جائے سیاست کی فکر نہیں اسی سوچ کے تحت فیصلے کر رہے ہیں۔اللہ اس قوم کی اصلاح کرتاہےجوخوداپنی اصلاح کیلئےتیارہو۔

آج آئی ایم ایف کہتا ہے کیسے آپ پر اعتبار کریں۔قومی مفاد کے حوالے بات چھپا سکتا ہوں، لیکن سچی بات کروں گا۔کوئی دھوکا نہیں دوں گا، دودھ شہد کی نہریں بہانے کی بات نہیں کروں گا۔آئی ایم ایف سے ہمارا معاہدہ تقریباً طے ہوگیا ہے۔اسلامی ممالک سے ہمارے تجارتی رشتےبڑھیں گے۔قوم کو خوشحالی اور ترقی کی طرف لے کر جانا، ہماری ذمہ داری ہوگی۔مل کر شبانہ روز محنت کریں، قومی ترقی کے فیصلے سر فہرست رکھیں۔عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے مزید اقدامات اٹھائیں گے۔تاریخ میں پہلی مرتبہ جنیوئن ٹیکس لگایا جارہا ہے۔مفت علاج ختم کر دیا گیا، لیپ ٹاپ پر تنقید کی جاتی تھی۔کورونا میں وہی لیپ ٹاپ روزگار کا وسیلہ بنا۔نواز شریف حکومت کےتمام اچھے کام ختم کر دیے گئے۔بڑے بڑے بلنڈرز کیے گئے، چین، ترکی، سعودی عرب سے تعلقات خراب ہوئے۔دن رات محنت کر کے خون پسینہ بہا کر مزدور کیلئے خوشحالی لانا ہے۔دیر نہیں ہوئی، میرا ایمان ہے مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں ہے۔عام آدمی کوریلیف دینےکیلئے 2 ہزارماہانہ دینےکافیصلہ کیاہے۔ہم نےآئی ایم ایف معاہدےکےذریعےمعاشی صورتحال کوبہتربناناہے۔ قومی ترقی کےفیصلوں کوترجیح دیں گے۔قومی مفاد کے حوالے سے بات چھپا سکتا ہوں، لیکن سچی بات کروں گا۔