بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس لگانے کا اعلان

اسلام آباد(رم نیوز)وزیرا عظم شہباز شریف نے کہا بجٹ سےمتعلق اہم فیصلے کیےہیں۔ کوشش ہے عوام کوزیادہ سےزیادہ ریلیف فراہم کریں۔ سابق حکومت میں بدترین کرپشن ہوئی ۔ معیشت دیوالیہ ہونےجارہی تھی جس سےملک اب نکل آئےگا۔آئی ایم ایف سےکوئی اور شرط نہ آئی توامیدہےمعاہدہ ہوجائےگا۔ جرات مندانہ فیصلےکیےہیں،ملک مشکل سےنکل آئےگا۔حکومت سنبھالنے کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے۔ ایک انتخابات اوردوسراراستہ مشکل فیصلوں کاتھا۔دوسروں کی طرح خاموش تماشائی بنناآسان تھا۔ فیصلوں سےشارٹ ٹرم مشکلات آئیں گی۔

یہ وقت سیات نہیں،ریاست کوبچانےکاہے۔ ہچکولےلیتی اس کشتی کوپارلگائیں گے۔ضمیر کی آواز کہتی ہے یہ عوم اور اپنے ساتھ زیادتی ہوگی،تاریخ معاف نہیں کرے گی۔اتحادیوں سے ملکر فیصلہ کیا کہ سیاست نہیں ریاست بچائیں گے۔عوام کو کوئی سبز باغ نہیں دکھائوں گا۔صاحب ثروت افرادغریبوں کی مدد کریں ۔غریب نے قربانی دی اب ایثار کرنے کی صاحب حیثیت کی باری ہے۔سخت فیصلوں سے وقتی مشکلات ہوں گی مگر آگے آسانیاں ہوں گی ۔ مشکل کے بعد آسانی آتی ہے،کوئی پھول کانٹوں کے بغیر نہیں ہوتا۔ہمت اور محنت سے پاکستان معاشی خود مختاری کی طرف آگے بڑھے گا۔میراایمان ہے اللہ کی رسی کو تھام لیں تو مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔غربت کم کرنے کے لیے صاحب حیثت افرادپر ٹیکس لگارہے ہیں۔یہ پہلابجٹ ہےجس میں ہم نےاکنامک وژن دیا۔

بجٹ سےمتعلق اہم فیصلےکیےہیں۔بڑی صنعتوںپر دس فی صدسپر ٹیکس لگارہے ہیں۔سٹیل،شوگر،ٹیکسٹائل،ایل این جی ٹرمینل شامل ہوں گے۔ آٹو انڈسٹری ،سگریٹ پربھی ٹیکس لگےگا۔2ہزار ارب روپے ٹیکس غائب ہوجاتاہے۔سپرٹیکس کا مقصد غربت میں کمی کرناہے ۔کیمیکل ،بیوریجز پر بھی 10فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا۔میرا وعدہ ہے راتوں کو جاگوں گا اتحادیوں سے ملکر پالیسی بنائوں گا۔ٹیکس کولیکشن کے لیے ٹیمیں بن چکی ہیں،آئینی اداروں سے مددلیں گے۔آپسی لڑائی کو ختم کرکے غربت کےخلاف لڑتے تو آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔سالانہ 15کروڑ روپے کمانے والوں پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔سالانہ 20کروڑ روپے کمانے والوں پر 2 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔سالانہ 25کروڑ روپے کمانے والوں پر 3 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔سالانہ 30کروڑ روپے کمانے والوں پر 4 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔