ورلڈ ہیپا ٹائٹس ڈے۔۔۔ آگہی ضروری۔۔۔کوتاہی نہ برتیں۔۔فوری تشخیص اور علاج ضروری

ورلڈ ہیپا ٹائٹس ڈے آج منایا جا رہا ہے ۔ہیپاٹائٹس سے کوتاہی نہیں برتنی چاہئے بلکہ اس کی فوری تشخیص اور علاج ضروری ہے تقریبا 325 ملین افراد ہیپاٹائٹس کے موذی مرض میں مبتلا ہیں اوریہ تعداد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔ جگر کے اس مرض کے پھیلائو میں سب سے بڑا خطرہ ایسے مریض ہیں جو اپنے مرض سے آگاہ نہیں ہوتے ۔ وہ اسے دیگر افراد میں منتقل کر دیتے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس پانچ قسم کے وائرس اے، بی، سی، ڈی اور ای پر مشتمل ہے۔

یہ مرض پیدائش کے دوران ماں سے بچوں میں منتقل ہوسکتا ہے اوراس کے علاوہ آلودہ پانی اور ناقص خوراک ہیپا ٹائٹس کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہوتی ہے۔ہیپاٹایٹس کی بروقت تشخیص سے جان لیوا بیماری کا علاج ممکن ہے اس لیے فوری تشخیص اور علاج سے کوتاہی نہ برتی جائے۔ماہرین کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک 2030 تک ہیپاٹائٹس بی اور سی کے خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے خاتمے کے لیے گھر گھر اسکریننگ کرنا ہوگی جس کے بعد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا افراد کو مفت ادویات دے کر اس مرض کے خاتمے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ شہری علاقوں میں آگاہی کی وجہ سے اس میں کمی آ رہی ہے لیکن دیہات میںابھی تک لوگ اس سے اتنے آگاہ نہیںہیں اس وجہ سےان کے لئے یہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔