’’ جس معاشرے میں ظلم کا شکار عورتیں ہوں وہاں محافظ بھی عورتیں ہونی چاہئیں‘‘

کراچی (رم نیوز)منیشا روپیتا پاکستان کی وہ پہلی ہندو خاتون ہیں جنہیں ڈی ایس پی کا چارج دیا گیا ہے اور فی الوقت وہ کراچی کے علاقے لیاری میں زیر تربیت ہیں۔ان کا تعلق ضلع جیکب آباد سے ہے ۔ان کی تین بہنیں بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں جبکہ اکلوتے اور چھوٹے بھائی میڈیکل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

منیشا کے والد جیکب آباد میں ایک تاجر تھے۔ وہ صرف تیرہ برس کی تھیں کہ ان کے والد کی وفات ہوگئی۔ ان کی والدہ نے اپنے پانچ بچوں کی اکیلے پرورش کی۔منیشا ایم بی بی ایس کے داخلہ ٹیسٹ میں ’ایک نمبر سے رہ گئیں تو انہوں نے ڈاکٹر آف فزیکل تھیراپی کی ڈگری لی اورپھرسندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان کی تیاری کرتی رہیں۔منیشا کاکہنا ہے کہ میں اس تاثر کو ختم کرنا چاہتی ہوں کہ اچھے گھر کی لڑکیاں تھانے نہیں جاتیں۔ میرا ماننا یہ ہے کہ جس معاشرے میں سب سے زیادہ ظلم کی شکار عورتیں ہوں وہاں آپ کی محافظ بھی عورتیں ہونی چاہئیں۔ہمیں بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہمارے پاس پروٹیکٹر ویمن‘ ہوں۔

پاکستان میں پولیس تھانے اور کچہری میں آج بھی خواتین کا جانا غیرمناسب سمجھا جاتا ہے’مجھے پولیس نے ہمیشہ بہت اٹریکٹ اور انسپائر کیا۔میرا بنیادی محرک یہ ہے کہ ہم ’فیمینائزیشن آف پولیس‘ کریں۔ایک لڑکی پولیس آفیسر نہیں بن سکتی اور خاص طور پر ہماری کمیونٹی سے۔ تو یہ ان کا اپنا خوف ہے۔منیشا کو امید ہے کہ مستقبل میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین پولیس میں شامل ہوں گی۔منیشا کاکہنا ہے انہوں نے مقابلے کا امتحان کسی کی مدد کے بغیر پاس کیا اور اب وہ ایک پرائیویٹ اکیڈمی میں پڑھاتی بھی ہیں۔ان کی خصوصی توجہ مقابلے کے امتحان کی تیاریاں کرنے والی لڑکیاں ہیں جن کی وہ رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اگر ان کی رہنمائی سے لڑکیاں مختلف پیشوں میں آگے جائیں گی تو وہ بہت خوش ہو گی۔