ہیل فائر میزائل آخر ہے کیا؟۔۔۔اس کوکیوں استعمال کیا جا تا ہے؟

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد ہیل فائر میزائل کی بات کی جارہی ہے۔ یہ ہیل فائر میزائل آخر کیا ہے اور اس کو کیوںاستعمال کیا جاتا ہے۔آج کل امریکہ میزائل حملوں میں ہیل فائر میزائل ہی استعمال کرتا ہے اس کا بنیادی مقصد ٹارگٹ ہوتا ہے اور ارد گرد کے نقصان کو کم سے کم کرنا ہوتا ہے۔ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت جہاں پر ہوئی وہاں کی تصویروں سے اس میزائل کے بارےمیں اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ہیل فائرمیزائل آخر ہوتا کیا ہے۔

ہیل فائر میزائل کو 1980 کی دہائی میں ایک اینٹی ٹینک میزائل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔ گذشتہ دو دہائیوں میں عراق، افغانستان، یمن اور دیگر علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے استعمال کیاہے۔درست طریقے سے رہنمائی کرنے والے میزائلوں کو ہیلی کاپٹروں اور بغیر پائلٹ کے ڈرونز پر نصب کیا جا سکتا ہے ۔امریکی فوج معمول کے مطابق ہیل فائر میزائلوں کا استعمال انتہائی اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کرتی ہے تاکہ مطلوبہ ٹارگٹ کو ہی نشانہ بنایا جائے اورارد گرد زیادہ نقصان نہ ہو۔

ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے کے لئے امریکہ کے پاس حملے کے لیے متعدد آپشنز تھے جن میں روایتی ہیل فائر، ہوائی جہاز سے گرائے گئے بم، یا زمینی افواج کی طرف سے کہیں زیادہ خطرناک حملے کا استعمال کیا جا سکتا تھا۔اس معاملے میں سی آئی اے نے ڈرون حملے کا انتخاب کیا اور دو ہیل فائر میزائل اس عمارت کی بالکونی پر فائر کیے گئے جہاں کابل میں الظواہری رہ رہے تھے۔ بالکونی کوتو نقصان پہنچا ہے لیکن جہاں الظواہری مقیم تھے لیکن گھر کے باقی حصے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ماہرین کے مطابق اس میزائل میں چھ گھومنے والے بلیڈوں کی سیریز ہے جو اپنے ہدف تک پہنچنے کے آخری مرحلے میں ابھرتا ہے۔ آر نائن ایکس کا ممکنہ طور پر استعمال انتظامیہ کی نقصانات کو کم کرنے اور معصوم جانوں کے ضیاع کو روکنے کی کوششوں کی ایک مثال ہے۔ ہیل فائر میزائل کا استعمال وہاں کیا جاتا ہے جہاں خطرہ مول لینے کے مقابلے میں بہت زیادہ احتیاط برتی جارہی ہو۔

اس حملے کے لیے فضا سے زمین پر ہدف کو نشانہ بنانے والے جس قسم کے میزائل کا انتخاب کیا گیا وہ کلیدی چیز تھی۔اس میزائل کو مختلف پلیٹ فارمز سے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ جن میں ہیلی کاپٹر، بحری جہاز، جنگی طیارے یا پھر ڈرون شامل ہیں۔جب ڈرون سے میزائل کوگرایاجاتا ہےتو اسے کنٹرول کرنے والا آپریٹر ہدف کی لائیو سٹریم ویڈیو دیکھ رہا ہوتا ہے جو ڈرون پر نصب کیمرے سیٹیلائٹ کے ذریعے اسے بھیجتے ہیں۔سکرین پر موجود ’ٹارگٹنگ بریکٹس‘ کی مدد سے آپریٹر ہدف کو ’لاک‘ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور اس جانب ایک لیزر پوائنٹ کرتا ہے۔ ہدف کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں ایک باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے تاکہ شہری ہلاکتوں کے امکان کو کم سے کم کیا جا سکے۔