’’خاتون جج کے پاس جاکر معافی مانگنےکے لئے تیار ہوں‘‘۔۔۔عمران خان کے خلاف فرد جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(رم نیوز) پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کے سلسلے میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نےکیس کی سماعت کی ۔وکیل نےعمران خان کے روسٹرم پر آنے کی اجازت مانگی ۔انہوں نے کہا عمران خان کچھ کہنا چاہتے ہیں آپ ان کو چارج فریم سے قبل انہیں سن لیں۔ اس پر پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا میری 26 سال کی جدوجہد قانون کی حکمرانی کے لئے ہی ہے۔ گزشتہ سماعت پر اندازہ ہوا عدالت سمجھتی ہے میں نے لائن کراس کی ۔خاتون جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔میں مستقل میں بھی کچھ ایسا نہیں کروں گا۔ میں ہمیشہ رول آف لاء کی بات کرتا ہوں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئے کہ توہین عدالت کی کارروائی کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ عمران خان کو بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہیں، آج فرد جرم عائد نہیں کررہے۔ آپ کا بیان حلفی دیکھ کرفیصلہ کریں گے۔ آپ نے جو بیان ابھی دیا اس کو سراہتے ہیں، بات بیان حلفی کی صورت میں آئے گی تو ہم زیرغور لائیں گے۔اس پرعدالت نےعمران خان پر فرد جرم کی کارروائی روک دی اور ایک ہفتے میں بیان حلفی جمع کرانے کاحکم بھی دیا گیا ۔ سماعت3ا کتوبر تک ملتوی کردی گئی ۔اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات تھے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔