قیمتوں میں کمی کی وجہ طلب و قوت خرید میں کمی، بے روزگاری اور غربت ہے:مزمل اسلم

پشاور(رم نیوز) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ ملک میں بنیادی افراط زر اب بھی 8 فیصد سے زائد ہے، تاہم حکومت مہنگائی میں کمی کا جھوٹا جشن منارہی ہے۔پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ پی ایم ایل این اور پی ڈی ایم کی معاشی حکمت عملی پرانی اور فرسودہ ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل این کے رہنماؤں کی کابینہ میں نجی شعبے کے افراد کو شامل کرنے کے باوجود حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار اور احسن اقبال جیسے افراد پی ایم ایل این کی قیادت کر رہے ہیں، جو کہ پرانی حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وزیرِاعظم شہباز شریف کو پاکستان کی شرح نمو کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا، جہاں پانچ سال کے تخمینے کے مطابق اوسط شرح نمو 4 فیصد سے کم اور اگلے سال کے لیے اہم فصلوں کی پیداوار کا تخمینہ منفی ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ میں نے وزیراعظم سے سوال کیا تھا کہ اس ویژن کے تحت بے روزگاری اور غربت پر کیسے قابو پائیں گے؟ لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا اور وزیرِاعظم نے معاملہ پلاننگ کمیشن کے چیئرمین کی طرف موڑ دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے ایک سال سے وہ یہ بات کر رہے ہیں کہ پاکستان کساد بازاری کا شکار ہے، لیکن حکومت اسے استحکام قرار دے رہی ہے۔ زراعت اور صنعت کے شعبے منفی گروتھ کی طرف جا رہے ہیں، اور حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ مہنگائی میں کمی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہو رہی، بلکہ قیمتوں میں کمی کی وجہ طلب و قوت خرید میں کمی، بے روزگاری اور غربت ہے۔