لاہور(رم نیوز)بھارت نے سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک دیو جی کی 486ویں برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے اپنے سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ پاکستان کی جانب سے باقاعدہ دعوت دی گئی تھی۔
بابا گورونانک دیو جی کی برسی، جسے "جوتی جوت" بھی کہا جاتا ہے، کی مرکزی تقریب 22 ستمبر کو گردوارہ دربار صاحب، کرتارپور میں منعقد ہو گی۔ تاہم واہگہ-اٹاری بارڈر اور کرتارپور راہداری (کوریڈور) کی بندش کے باعث بھارت سے کوئی یاتری اس مذہبی اجتماع میں شریک نہیں ہو سکے گا۔اس کے برعکس امریکا، برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک سے سکھ عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے، جو کرتارپور میں مذہبی رسومات اور عقیدت کا اظہار کریں گے۔
پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اس صورتحال پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "سکھ یاتریوں کو ان کے مقدس مقامات کی زیارت سے روکنا مذہبی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔" انہوں نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کو افسوسناک اور اقلیتوں کے مذہبی جذبات کے منافی قرار دیا۔