نیویارک ((رم نیوز)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا، موناکو اور اینڈورا نے فلسطین کو باقاعدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنا محض علامتی اقدام نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک عملی قدم ہے۔
بیلجیئم کے وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں غزہ تک مکمل اور آزادانہ انسانی رسائی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری بحران دو ریاستی حل کو سنگین خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ انسانی بنیادوں پر امدادی رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالے۔لکسمبرگ کے وزیراعظم نے دو ریاستی حل کو مشرق وسطیٰ میں امن کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا جبکہ مالٹا کے وزیراعظم نے واضح کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کی حمایت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں پر مبنی فیصلہ ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 147 ہو گئی ہے، جو اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک کا تقریباً 80 فیصد بنتے ہیں۔