نیویارک(رم نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں عالمی ادارے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ "جب جنگیں نہ رکوا سکے تو یو این کا کیا فائدہ؟"
ٹرمپ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری تھی کہ تنازعات کو روکے لیکن اس نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے بھارت کے رویے کو بھی ہدفِ تنقید بنایا اور کہا کہ کئی ممالک تو یو این کے رہنماؤں کے فون تک نہیں سنتے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے سات جنگیں ختم کروائیں اور پاکستان، بھارت اور ایران کی مدد سے اسرائیل کے تنازعات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی جنگ نے 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جان لے لی ہے، جسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
ٹرمپ نے یرغمالیوں کی رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "مزید تاخیر ناقابل قبول ہے"۔ انہوں نے حماس پر امن کے مواقع ضائع کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اگر وہ صدر نہ ہوتے تو غزہ اور یوکرین جنگیں شروع نہ ہوتیں۔
انہوں نے روس، چین اور بھارت پر بھی تنقید کی اور خبردار کیا کہ حیاتیاتی ہتھیار دنیا کو تباہ کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی پالیسی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے گرین انرجی منصوبوں کو "دھوکہ" کہا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں مہنگائی کم، سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور سرحدیں محفوظ ہیں، یہی امریکا کا "سنہری دور" ہے۔