پنجاب میں سموگ سے نمٹنے کا جامع منصوبہ تیار، ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم، ڈرون سکواڈز اور مشینری فراہم کرنے کا فیصلہ

لاہور(رم نیوز) پنجاب میں سموگ سے نمٹنے کے لیے سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت سموگ سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔

پہلی بار ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کا جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت 41 مراکز اور 5 موبائل سسٹمز قائم کیے جا رہے ہیں۔ دھان کی باقیات جلانے کی بجائے کسانوں کو 5 ہزار سپر سیڈرز اور جدید زرعی مشینری فراہم کی جائے گی۔

سموگ کنٹرول کے لیے 12 ڈرون اور 8 ای اسکواڈز تعینات کیے گئے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماحولیاتی بہتری کے بڑے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔فضا صاف کرنے کے لیے "لیکوڈ ٹری" منصوبہ، فوگ کینن، اور زہریلی گیسوں کے تجزیے کی مشینیں بھی شامل ہیں۔ خراب انجن والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

پلاسٹک بیگز پر پابندی سخت کرتے ہوئے 9 نو پلاسٹک زونز قائم کیے جائیں گے۔ عوامی شکایات کے لیے ہیلپ لائن 1737 کو 15 سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ضرورت پڑنے پر تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔