اسرائیلی حملے کے باوجود صمود فلوٹیلا غزہ کی جانب رواں، 200 کارکن گرفتار

دوحہ / اسلام آباد / بیت المقدس(رم نیوز)اسرائیلی فوج نے غزہ کے محاصرے کو توڑنے کے لیے امدادی سامان لے جانے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر حملہ کر کے 37 ممالک کے 200 سے زائد کارکنان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔فلوٹیلا منتظمین کے مطابق، 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل قافلے میں سے کئی ابھی بھی بحیرۂ روم کے راستے غزہ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشن رکا نہیں، اور تقریباً 30 جہاز اب بھی اسرائیلی جنگی جہازوں سے بچتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔

واقعے کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ اسپین، ترکی، جرمنی، برازیل، کولمبیا، ارجنٹینا اور پاکستان سمیت متعدد ممالک میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ترکیہ، ملائیشیا اور اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کارکنان کی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار افراد کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔