اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، داخلی راستے بند، موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل

اسلام آباد(رم نیوز)تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے فیض آباد سے امریکی سفارت خانے تک "اقصیٰ مارچ" کے اعلان کے بعد جڑواں شہروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی و خارجی راستے مختلف مقامات سے بند، جب کہ موبائل و انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کی ہدایت پر پی ٹی اے کو جاری کردہ مراسلے کے مطابق، موبائل انٹرنیٹ سروس گزشتہ شب 12 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس اقدام کی منظوری دی۔ادھر محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں 10 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت چار یا زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد ہوگی، تاہم عبادات، شادی، جنازہ، دفاتر اور عدالتوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔ اسلحے کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس نے متبادل ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے، جب کہ میٹرو بس سروس اور شہر کی دیگر پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل کر دی گئی ہے۔ مختلف سڑکوں کی بندش کے باعث شہریوں، بالخصوص طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔موٹروے اور جی ٹی روڈ بدستور کھلے ہیں، تاہم شہر میں داخلے پر پابندیاں برقرار ہیں۔ فیض آباد، کھنہ پل، کورال، آئی جے پی روڈ اور دیگر مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے فضائی نگرانی بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔