پاک افغان کشیدگی، چمن اور طورخم بارڈر ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند

خیبر / کرم (رم نیوز)پاک افغان فورسز کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات کے بعد چمن اور طورخم بارڈر دونوں اطراف سے ہر قسم کی آمد و رفت بند کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر کی بندش کے باعث تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے، جب کہ تمام مال بردار گاڑیوں کو لنڈی کوتل منتقل کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں بابِ دوستی کو بھی تاحکمِ ثانی بند کر دیا گیا ہے۔ بارڈر بندش سے دونوں جانب کے شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین چمن کے راستے افغانستان واپس جا رہے تھے، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر ان کی واپسی کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔

بلوچستان کے وہ سات اضلاع جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں، ان میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں۔یاد رہے کہ اس سال فروری اور مارچ میں بھی طورخم بارڈر پر فائرنگ اور جھڑپوں کے بعد سرحد بند کی گئی تھی، جس سے تجارتی سرگرمیاں کئی روز تک معطل رہیں۔