اسلام آباد(رم نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کا اجتماع خود افغانستان کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان مذاکرات کے آغاز کا کریڈٹ ترکیہ اور قطر کو جاتا ہے، اور اگر یہ عمل کامیاب ہوا تو بھارت کے لیے بڑی مایوسی ہوگی کیونکہ کابل میں اس کے گہرے روابط ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کو ایکسپورٹ نہیں کرتا بلکہ ان سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات 6 نومبر کو طے ہوں گی۔دوسری جانب غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ راولپنڈی میں 18 مالک مکان گرفتار، 216 افغان شہری تحویل میں لے لیے گئے جبکہ رائے ونڈ میں بھی مقدمہ درج کیا گیا۔
پنجاب پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو مکان یا دکان کرائے پر دینے سے گریز کریں، خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔ادھر چمن اور طورخم کے راستے افغان مہاجرین کی واپسی جاری ہے، اب تک 15 لاکھ 60 ہزار سے زائد افغان باشندے اپنے وطن لوٹ چکے ہیں۔ حکام کے مطابق سرحدیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کھولی گئی ہیں تاکہ شہری باحفاظت واپس جا سکیں۔