کراچی(رم نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں اور ڈیجیٹائزیشن سے معیشت میں شفافیت آئے گی۔دی فیوچر سمٹ کے نویں ایڈیشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ معیشت میں نجی شعبے کا کردار اہم ہے اور پیداوار پر مبنی ترقی ہی ملک کے لیے پائیدار راستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان تھرڈ لارجسٹ فری لانسرز کی فہرست میں شامل ہے اور ملک کو برآمدات کا مرکز بنانا ہے۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور 9 لاکھ نئے فائلرز شامل ہوئے ہیں۔ مصر نے ایف بی آر اصلاحات سے سیکھنے کی درخواست بھی کی ہے۔محمد اورنگزیب نے بلیو اکانومی، آئی ٹی اور میری ٹائم سیکٹر میں ترقی کے امکانات اجاگر کیے اور کہا کہ غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام قرار دے رہی ہیں۔ انہوں نے نجکاری کے اقدامات بھی بیان کیے، جن میں فرسٹ ویمن بینک، پی آئی اے اور تین ڈسکوز کی نجکاری شامل ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت میں رائٹ سائزنگ جاری ہے، 39 وزارتوں کو ضم کیا جا رہا ہے اور ملازمین کو نجی شعبے کے برابر پیکجز دیے جا رہے ہیں۔ پنشن اصلاحات اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فنڈز کا دانشمندانہ استعمال بھی حکومتی ایجنڈے میں شامل ہے۔