کراچی(رم نیوز) وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے سمندر، جو طویل عرصے تک غیر مستعمل رہے، اب قومی معیشت اور موسمیاتی طور پر پائیدار بحری ترقی کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بن چکے ہیں۔وفاقی وزیر بحری امور نے انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا مستقبل سمندر سے جڑا ہے۔
وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے پائیدار "بلیو گروتھ" کو معیشت کی نئی سمت قرار دیا۔انہوں نے مزید کہاکہ سمندر پاکستان کی تجارت اور موسمیاتی لچک کا محور بن رہا ہے۔پائی میک 2025 پاکستان کے میری ٹائم وژن کا عکاس ہے۔ ان کامزید کہنا تھا کہ پی این ایس سی کے بیڑے میں دو نئے جہاز شامل، تین مزید جلد شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا PIMEC 2025 صرف ایک نمائش نہیں، بلکہ پاکستان کے بحری عزائم کا اعلان ہے۔ اس تقریب میں بین الاقوامی شراکت دار، سرمایہ کار اور ماہرین نے حصہ لیا، جو بلیو اکنامی کے مختلف شعبوں جیسے شپنگ، ماہی گیری، لاجسٹکس، جہاز سازی اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں مواقع تلاش کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت نے پہلی بار نجی کمپنی کو فیری سروسز چلانے کا لائسنس دیا ہے، جو صاف اور پائیدار بحری نقل و حمل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ان کامزید کہنا تھا کہ پورٹ قاسم پر "گرین شپ ریپیر اینڈ ری سائیکلنگ یارڈ" قائم کیا جائے گا۔قومی ماہی گیری و ایکوا کلچر پالیسی منظور، برآمدات دوگنا کرنے کا ہدف ہے۔ پاکستان میری ٹائم اکیڈمی کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے نئے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا پہلا گرین شپ ریپئر اور ری سائیکلنگ یارڈ پورٹ قاسم میں قائم کیا جائے گا، جو سی ٹو سٹیل انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس کا حصہ ہوگا، اور پاکستان سٹیل ملز کی بحالی میں بھی مدد کرے گا۔ گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کو ہانگ کانگ کنونشن کے ماحولیاتی معیار کے مطابق جدید بنانے کے لیے 12 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ قومی فشریز اور ایکوی کلچر پالیسی 2025–2035 حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کا ہدف ایک سال میں ماہی گیری کی برآمدات کو دوگنا کرنا ہے۔ میری ٹائم ایجوکیشن اینڈوومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے اور پاکستان میرین اکیڈمی کو مکمل میرین یونیورسٹی میں اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ اگلی نسل کے سمندری ماہرین کی تربیت ممکن ہو سکے۔سمندر ہمارے تجارتی، خوشحالی، توانائی، خوراک اور ماحولیاتی تحفظ کا اگلا محاذ ہے۔انہوں نے کہا کہ 2047 تک پاکستان ایک عالمی بلیو اکنامی مرکز بننے کا ہدف رکھتا ہے جو شمالی عربی سمندر اور ہند بحر کے خطے میں پائیدار ترقی کو فروغ دے گا۔وزیر بحری امور کاکہنا تھا کہ 2047 تک پاکستان علاقائی "بلیو اکانومی مرکز" بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
جنید انور چوہدری نے اختتام پر علاقائی تعاون اور جدت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل گوادر سے لے کر عالمی سمندر تک سمندر میں ہی ہے۔