پارلیمانی کمیٹی کا 27ویں آئینی ترمیم پر اجلاس، آئینی عدالتوں کے قیام کی منظوری، مزید 3 ترامیم پیش

اسلام آباد (رم نیوز)پارلیمان کی قانون و انصاف کمیٹیوں کا 27ویں آئینی ترمیم پر مشترکہ اجلاس جاری ہے جس میں حکومتی اتحاد نے مزید تین ترامیم پیش کر دیں، جبکہ آئینی عدالتوں کے قیام کی شق منظور کر لی گئی۔ اجلاس کی صدارت فاروق ایچ نائیک اور محمود بشیر ورک کر رہے ہیں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیراعظم کے فوجداری استثنیٰ والی ترمیم واپس لے لی۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے زیر التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے اور غیر پیروی کی صورت میں مقدمہ نمٹا ہوا تصور کرنے کی ترمیم منظور کر لی۔ اے این پی نے خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کر کے "پختونخوا" رکھنے کی تجویز پیش کی، جبکہ بلوچستان میں نشستیں بڑھانے اور بلدیاتی فنڈز سے متعلق ایم کیو ایم کی ترامیم پر اتفاق ہوا۔

اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح کیا ہے وہ استثنیٰ نہیں چاہتے، جبکہ کمیٹی کی کوشش ہے تمام تجاویز پر اتفاق رائے سے فیصلہ کر کے اجلاس آج شام تک مکمل کیا جائے۔