واشنگٹن(رم نیوز) وائٹ ہاؤس کے قریب نامعلوم حملہ آور کی فائرنگ سے دو نیشنل گارڈز شدید زخمی ہو گئے، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو ہنگامی طور پر بند کر دیا گیا۔ امدادی اور سکیورٹی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور مشتبہ شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واقعے کی فوری بریفنگ دے دی گئی ہے اور وہ صورتحال کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ مختلف وفاقی ایجنسیاں فائرنگ کے محرکات اور دیگر معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔امریکی حکام کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے کی گئی ہے، جو 2021 میں امریکا آیا تھا۔
فائرنگ کے بعد رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں، تاہم چند گھنٹوں بعد معمول کی کارروائیاں بحال کر دی گئیں۔صدر ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل گارڈز پر حملہ "نفرت اور برائی کی علامت" ہے اور حملہ آور "بھاری قیمت چکائے گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن دور میں آنے والے تمام پناہ گزینوں کی لازمی اسکریننگ ہونی چاہیے تھی۔