افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا عندیہ:پاکستان کا دوٹوک مؤقف

نیویارک (رم نیوز)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشتگردوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان نے تنظیم کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے تو پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے خود قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔

عاصم افتخار کے مطابق 6 ہزار کے قریب ٹی ٹی پی جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں اور افغانستان ایک بار پھر مختلف دہشتگرد گروہوں اور ان کے پراکسی نیٹ ورکس کی پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہ باہمی تعاون کر رہے ہیں، جس سے علاقائی امن شدید خطرے سے دوچار ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سرحد پار دراندازی کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا ہے اور اس جدوجہد میں پاکستانی فورسز اور شہریوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ مندوب نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی ٹیم نے بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جو پاکستان کے خدشات کو مضبوط کرتی ہے۔

عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تباہ کن اثرات پورے خطے پر پڑ رہے ہیں، جبکہ جنگ کے اختتام کے بعد افغان مہاجرین کو اپنے وطن واپس جانا چاہیے۔