تہران(رم نیوز)ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج بے قابو ہو گیا ہے، جہاں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 217 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ ہوئی جس میں 25 مساجد، 26 بینک اور 2 ہسپتالوں سمیت سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ 2500 مظاہرین کو گرفتار کر کے انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ پاکستانی سفارتخانہ: تہران میں پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے کرائسس مینجمنٹ یونٹ قائم کر دیا گیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اسے امریکی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر دشمن کو خوش کر رہے ہیں۔ایران نے اقوام متحدہ سے امریکی مداخلت روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔