ٹیکس اور مہنگی توانائی سے کاروبار متاثر، کچھ کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں: وزیر خزانہ

اسلام آبادؔ(رم نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ زیادہ ٹیکس اور توانائی کی بلند قیمتیں کاروباری سرگرمیوں کیلئے سنگین مسائل ہیں جس کے باعث کچھ کمپنیاں پاکستان سے منتقل ہو رہی ہیں۔پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی اصلاحات کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور حکومت معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے الگ کر کے فنانس ڈویژن کے تحت کر دیا گیا ہے جبکہ رواں برس جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل ہو جائیں گی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر آئیں جبکہ رواں سال 41 ارب ڈالر کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات کے تحت خام مال پر ڈیوٹیز کم کی جا رہی ہیں جس سے برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔محمد اورنگزیب کے مطابق 24 ادارے نجکاری کیلئے پیش کئے جا چکے ہیں اور سرکاری اداروں میں سالانہ تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا، اسی لیے یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا۔