پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پیشگی امیگریشن کلیئرنس کا نظام نافذ کرنے کا فیصلہ۔۔۔یہ نظام کیوں ضروری ہے؟

اسلام آباد(رم نیوز)پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مسافروں کے سفر کو آسان بنانے کے لیے پیشگی امیگریشن کلیئرنس (Pre-Immigration Clearance) کا نظام لاگو کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت پاکستان سے یو اے ای جانے والے تمام مسافروں کی امیگریشن اور کسٹمز کی کارروائی پاکستان میں مکمل ہو جائے گی۔وزارت داخلہ کے مطابق اس نظام کے بعد مسافروں کو یو اے ای پہنچنے پر دوبارہ امیگریشن کے عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا اور وہ مقامی مسافروں کی طرح ایئرپورٹ سے براہ راست باہر جا سکیں گے۔ ابتدائی طور پر یہ نظام پائلٹ بنیادوں پر کراچی کے جناح ایئرپورٹ سے شروع کیا جائے گا اور کامیابی کے بعد دیگر شہروں تک پھیلایا جائے گا۔

نظام کے تحت یو اے ای کے امیگریشن اور کسٹمز اہلکار پاکستان میں تعینات ہوں گے، اور مسافر آن لائن فارم کے ذریعے اپنی معلومات فراہم کریں گے، جس کے بعد ایئرپورٹ پر ان کی تصدیق اور کلیئرنس مکمل کی جائے گی۔پاکستانی حکام کے مطابق یہ اقدام مسافروں کے لیے سہولت پیدا کرنے، جعلی دستاویزات اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام، اور پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔یہ منصوبہ سعودی عرب کے “روٹ ٹو مکہ” پراجیکٹ کی طرز پر ہے، جہاں حج کے مسافروں کی امیگریشن پاکستان میں مکمل کی جاتی ہے تاکہ سعودی عرب پہنچنے پر وہ براہ راست ہوٹلز تک جا سکیں۔