کراچی (رم نیوز)کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی شدید آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے، جن میں 11 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ آگ کے باعث عمارت کی ساخت انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، ستون کمزور پڑ گئے ہیں اور پلازہ کا پچھلا حصہ منہدم ہو گیا ہے، جس کے بعد پوری عمارت کے زمین بوس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو 1122 سندھ کے مطابق تیسرے درجے کی اس آگ پر تاحال 77 فیصد تک قابو پا لیا گیا ہے، تاہم فائرفائٹنگ اور کولنگ کا عمل جاری ہے جو آئندہ 3 سے 4 دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران ایک فائر فائٹر فرقان علی شہید ہو گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ ایک پرانی اور بوسیدہ تین منزلہ کمرشل عمارت ہے، جس میں کپڑے، پلاسٹک، کیمیکل، پرفیوم، میک اپ، الیکٹرانکس اور کھلونوں سمیت آتش گیر سامان کی بڑی مقدار موجود تھی، جس کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔ آگ سے گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے ہیں جبکہ بالائی دو منزلوں پر بھی آگ بھڑکتی رہی۔
فائرفائٹنگ اور ریسکیو آپریشن میں کے ایم سی، ریسکیو 1122، پاک بحریہ، پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی اور سندھ رینجرز کے فائر ٹینڈرز اور اسنارکلز نے حصہ لیا۔ عمارت میں ہوا کے راستے نہ ہونے، کھڑکیاں بند ہونے، شدید دھوئیں، ایمرجنسی اخراج کے ناکافی راستوں اور پانی کی کمی کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام کے مطابق پلازہ میں موجود متعدد افراد کو سنارکل کی مدد سے بحفاظت نکالا گیا، تاہم عمارت کے ایک حصے کے اچانک منہدم ہونے سے آگ دوبارہ بھڑک اٹھی اور ایک فائر فائٹر ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا۔
واقعے کا وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر داخلہ سندھ اور میئر کراچی نے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد آگ لگنے کی وجوہات اور عمارت میں حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔