نئی دہلی(رم نیوز)انڈیا نے ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ کے منصوبے میں اپنی شراکت داری برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ تجارت پر اضافی ٹیرفز عائد کیے ہیں۔ یہ بندرگاہ انڈیا کے لیے اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتوں میں میڈیا اور ماہرین نے قیاس کیا کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے انڈیا منصوبے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے، لیکن وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ چابہار کے آپریشن کو جاری رکھنے کے لیے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے میں ہیں
چابہار کی ترقی کے لیے انڈیا اور ایران نے 2003 میں معاہدہ کیا تھا، جبکہ 2024 میں شہید بہشتی ٹرمینل کے لیے 10 سالہ معاہدہ بھی طے پایا۔ انڈیا نے اپنی سرمایہ کاری مکمل کر دی ہے اور منصوبے کو آگے بڑھانے کا عزم برقرار رکھا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کا یہ قدم امریکی دباؤ کے باوجود محتاط اور توازن قائم رکھنے کی حکمت عملی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا کہ انڈیا اپنے فیصلے خود کرے گا اور کسی تیسرے ملک کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔چابہار منصوبہ انڈیا کے لیے پاکستان کے گوادر پورٹ کے مقابلے میں وسطی ایشیا تک تجارتی اور سٹریٹجک رسائی فراہم کرنے والا اہم منصوبہ ہے، جس کی کامیابی خطے میں اقتصادی اور جغرافیائی توازن کے لیے فیصلہ کن سمجھی جاتی ہے۔