اسلام آباد(رم نیوز)پاکستان میں انٹرنیٹ سست ہونے کی بنیادی وجہ سپیکٹرم کی کمی اور محدود انفراسٹرکچر بتائی جاتی ہے۔ ٹیلی کام کمپنیاں اس وقت صرف 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم استعمال کر رہی ہیں، جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں یہ رقم اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ کم سپیکٹرم کی وجہ سے صارفین کے بڑھنے پر نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور انٹرنیٹ سست ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں صرف 15 فیصد موبائل ٹاورز فائبر آپٹک نیٹ ورک سے جڑے ہیں، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح زیادہ ہے۔ فائبر کنکشن کی کمی بھی ڈیٹا کی رفتار کو محدود کرتی ہے۔حکومت نے حال ہی میں 700 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی نیلامی کا اعلان کیا ہے، جس سے ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس زیادہ راستے ہوں گے اور انٹرنیٹ کی سپیڈ بہتر ہو سکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فور جی نیٹ ورک کو اپگریڈ کرنا اور فائبر نیٹ ورک بڑھانا سب سے مؤثر طریقہ ہے، جبکہ فائیو جی کی موجودہ صارفین کی تعداد بہت کم ہونے کی وجہ سے اس پر زور دینا فی الحال محدود فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد 19 کروڑ 25 لاکھ ہے، جن میں سے 14 کروڑ 98 لاکھ افراد براڈ بینڈ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر صارفین کے فونز فائیو جی سپورٹ نہیں کرتے، جس سے تیز رفتار انٹرنیٹ کا فائدہ محدود رہتا ہے۔
حکومت اور ٹیلی کام کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سپیکٹرم میں اضافہ اور انفراسٹرکچر کی بہتری سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار بہتر کیا جا سکے گا، جس سے صارفین کو تیز اور مستحکم ڈیٹا سروسز میسر ہوں گی۔