تہران(رم نیوز)ایران کے ایک سینیئر رکن پارلیمان کے مطابق حکومت آئندہ چند دنوں میں ملک بھر میں عائد انٹرنیٹ پابندی مرحلہ وار ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس دوران سرکاری ٹی وی کو ہیک کرنے کا واقعہ بھی پیش آیا جس میں چند لمحوں کے لیے ٹرمپ اور رضا پہلوی کی تقاریر نشر ہوئیں۔
حکام کے مطابق سڑکیں نسبتاً خاموش ہیں اور گرفتاریاں جاری ہیں، جن میں مبینہ طور پر اسرائیلی ایجنٹ بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔ جزوی طور پر فلٹر شدہ انٹرنیٹ کے ذریعے محدود پیغامات کی ترسیل ممکن ہے، جبکہ پارلیمانی کمیٹی نے کہا کہ سکیورٹی ادارے حالات کا جائزہ لے کر انٹرنیٹ بحال کریں گے۔