نئی دہلی (رم نیوز)انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان نئی دفاعی شراکت داری نے خطے میں سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کر دی ہے۔ کچھ مبصرین اسے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے ردِعمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، لیکن ماہرین اور سابق سفارت کار اسے دو طرفہ دفاعی تعلقات کی فطری توسیع قرار دیتے ہیں۔
سیاسی مبصرین اور آئینی ماہرین کے نزدیک یہ معاہدہ کسی مخصوص واقعے کا ردِعمل نہیں بلکہ دونوں ممالک کے طویل المدتی دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات کی منطقی آگے بڑھائی گئی شکل ہے۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک موجودہ عالمی اور خطے کی صورتِ حال سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا بڑھتا ہوا تعاون، یمن میں کشیدگی، اور مغربی ایشیا میں اتحادی حرکات ہیں ۔اس معاہدے کو فطری توسیع سے زیادہ کسی ردِعمل کے طور پر دیکھنے کا رجحان پیدا کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، خطے میں ممکنہ اتحادامارات، اسرائیل اور انڈیا اور پاکستان کے سعودی عرب و ترکی کے تعلقات میں توازن کا فرق عارضی ہے اور اس کا مقصد صرف دفاعی اور اقتصادی خودمختاری کو مستحکم کرنا ہے۔