اسلام آباد(رم نیوز)بیوی، بچوں اور گھریلو افراد کے سماجی تحفظ سے متعلق پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 کی تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں، جس کے تحت گھریلو تشدد کی مختلف اقسام کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔
بل کے مطابق اگر تعزیراتِ پاکستان کے تحت کوئی جرم گھریلو تعلق کے دائرے میں ہو تو اس پر سزا اسی قانون کے تحت دی جائے گی۔ جسمانی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ توہین آمیز اور تذلیل آمیز رویے، جن میں حسد، گالم گلوچ، دھمکیاں، جھوٹے الزامات، ترکِ تعلق، تعاقب اور ہراسانی شامل ہیں، قابلِ تعزیر جرم ہوں گے۔
قانون کے تحت عزتِ نفس مجروح کرنے والا کوئی بھی جنسی نوعیت کا عمل جرم تصور کیا جائے گا۔ بل کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، معذور افراد، لے پالک بچوں، ٹرانس جینڈر اور ایک ہی گھر میں رہنے والے دیگر افراد پر ہوگا۔ بیوی، بچوں یا گھر میں موجود کسی بھی فرد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ گھریلو تشدد کے مرتکب افراد کو تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید تین سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔ بیوی یا گھر میں موجود معذور یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا بھی قابلِ سزا جرم ہوگا۔
قانون کے مطابق بیوی کو اس کی مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنے، خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزتِ نفس مجروح کرنے اور جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح گھر میں رہنے والے کسی بھی فریق پر جھوٹا الزام لگانا یا ان کا خیال نہ رکھنا بھی قابلِ سزا ہوگا۔
ڈومیسٹک وائلنس بل میں جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی استحصال کو گھریلو تشدد کی تعریف میں شامل کیا گیا ہے۔ متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے کا حق حاصل ہوگا، بصورت دیگر جوابدہ کو متبادل رہائش یا شیلٹر ہوم فراہم کرنا ہوگا۔
عدالت کو درخواست موصول ہونے کے سات دن کے اندر سماعت شروع کرنا ہوگی جبکہ 90 دن میں فیصلہ سنانا لازم ہوگا۔ تشدد کے مرتکب شخص کو متاثرہ فرد سے دور رہنے کا حکم دیا جا سکے گا اور بعض کیسز میں جی پی ایس ٹریکر پہننے کی بھی ہدایت دی جائے گی۔بل کے تحت بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر کم از کم 6 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 3 سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔