پانی کو بطور جنگی حربہ استعمال کرنا مسترد کرتے ہیں، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی تشویشناک ہے: صدر زرداری

اسلام آباد(رم نیوز)صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آبی ذخائر کے عالمی دن (رامسر کنونشن) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پانی کو جبر یا سیاسی مقاصد کے لیے بطور جنگی حربہ استعمال کرنے کی کوششوں کو ہر صورت مسترد کرنا ضروری ہے، کیونکہ دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ لاکھوں زندگیوں اور غذائی تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔

صدر زرداری نے خطے میں پانی کی سلامتی کو ذمہ دارانہ قانونی تعاون سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1960 کے سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی میں رخنہ ڈالنا اس باہمی بھروسے کو ٹھیس پہنچاتا ہے جس کی اس ماحولیاتی دباؤ کے دور میں اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کی دفاعی لائن: صدر نے آبی ذخائر (Wetlands) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جھیلیں، گلیشیئرز اور ساحلی نظام سیلاب، خشک سالی اور سمندر کی سطح میں اضافے کے خلاف پاکستان کے لیے دفاع کی اولین صف کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر سندھ کے آبی ذخائر، انڈس ڈیلٹا، کینجھر اور منچھر جھیل میں تازہ پانی کی کمی اور آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ آبی ذخائر کی تباہی کا براہِ راست اثر غریب عوام کی آمدنی، خوراک کی قیمتوں اور پینے کے صاف پانی کی دستیابی پر پڑتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں اور پالیسی سازوں سے اپیل کی کہ وہ آبی ذخائر کو قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے ان کے پائیدار انتظام کے لیے کام کریں۔