پاکستان کی 'بلیو اکانومی' کا دارومدار آبگاہوں کے تحفظ پر ہے: وفاقی وزیر جنید انوار

اسلام آباد(رم نیوز)وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ آبگاہیں (Wetlands) پاکستان کی بحری معیشت اور سمندری حیات کے تحفظ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عالمی یومِ آبگاہ 2026 کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ مینگرووز اور ساحلی جھیلیں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ہماری پہلی دفاعی لائن ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کے کل رقبے کا 10 فیصد حصہ آبگاہوں پر مشتمل ہے، جو ماہی گیری، آبی زراعت اور ساحلی آبادیوں کے معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔مینگرووز اور دلدلی علاقے سیلاب، ساحلی کٹاؤ اور سمندر کی سطح میں اضافے کے خلاف قدرتی ڈھال کا کا کرتے ہیں اور ہماری بندرگاہوں کو محفوظ بناتے ہیں۔سال 2026 کے تھیم "آبگاہیں اور مقامی علم" کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سندھ اور بلوچستان کی ساحلی برادریوں کے روایتی طریقوں کو سراہا، جو صدیوں سے ان قدرتی وسائل کی حفاظت کر رہے ہیں۔

یہ ماحولیاتی نظام سمندری پانی کی صفائی اور حیاتیاتی تنوع برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے عوام اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ان قیمتی آبی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم معیشت چھوڑی جاسکے۔