کراچی(رم نیوز)عالمی نقشے پر بدلتے ہوئے حالات اور امریکہ و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے سونے کی مارکیٹ کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سرمایہ کار سخت تذبذب کا شکار ہیں۔ بدھ کے روز عالمی منڈی میں قیمتوں کے اچانک اچھال نے پاکستان میں فی تولہ سونے کو 5 لاکھ 29 ہزار 162 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سونا بیچ کر منافع کمانے کا وقت ہے یا مزید اضافے کے انتظار میں اسے روکے رکھنا بہتر ہے؟۔
امریکی بحری بیڑے کے قریب ایرانی ڈرون کو مار گرائے جانے کے واقعے نے سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ غیر یقینی حالات میں سرمایہ کار اپنی رقم کرنسی یا اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر سونے میں منتقل کر رہے ہیں، جسے محفوظ ترین سرمایہ کاری (Safe Haven) سمجھا جاتا ہے۔بدھ کو عالمی مارکیٹ میں سپاٹ گولڈ کی قیمت 2.7 فیصد اضافے کے بعد 5,071 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی، جبکہ امریکی فیوچرز مارکیٹ میں اپریل ڈیلیوری کے لیے سودے 5,092 ڈالر پر ہو رہے ہیں۔
پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں آج گہما گہمی رہی۔ عالمی قیمتوں میں 148 ڈالر کے اضافے کے بعد مقامی قیمتوں میں درج ذیل تبدیلیاں دیکھی گئیں،رپورٹ کے مطابق فی تولہ اضافہ: 14,800 روپے،10 گرام اضافہ: 12,689 روپے،موجودہ فی تولہ قیمت: 5 لاکھ 29 ہزار 162 روپے ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس وقت دو قسم کی آراء سامنے آ رہی ہیں۔ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سونا گزشتہ ہفتے 5,594 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو کر واپس آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قیمتیں جب اتنی تیزی سے بڑھتی ہیں تو بڑے سرمایہ کار اکثر منافع کے بارے میں سوچتے ہیں۔ جس سے قیمتیں اچانک نیچے گر سکتی ہیں۔ اس لیے وہ لوگ جنہوں نے کم ریٹ پر سونا خریدا ہوا تھا، ان کے لیے یہ ایک منافع بخش ایگزٹ پوائنٹ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا ایک گروپ دعویٰ کر رہا ہے کہ سال کے پہلے نصف تک سونا 5,600 ڈالر اور سال کے اختتام تک 6,000 ڈالر فی اونس تک جا سکتا ہے۔ اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو پاکستان میں سونا 6 لاکھ روپے فی تولہ سے بھی تجاوز کر جائے گا۔اگرچہ موجودہ رجحان اوپر کی جانب ہے، لیکن عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ممکنہ جوہری مذاکرات مارکیٹ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اگر مذاکرات میں کامیابی ہوتی ہے اور کشیدگی کم ہوتی ہے، تو سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ بھی آ سکتی ہے۔
سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی کل سرمایہ کاری کا ایک حصہ اس وقت بیچ کر منافع حاصل کریں، جبکہ باقی حصہ محفوظ رکھیں اور مارکیٹ ٹرینڈز کا انتظار کریں۔