’بو کاٹا‘ کی واپسی: لاہور کی چھتوں پر دو دہائیوں بعد رنگوں کا راج، مگر ’حفاظتی ڈھال‘ کے ساتھ

لاہور (رم نیوز) زندہ دلانِ لاہور کا پسندیدہ ترین تہوار ’بسنت‘ 20 سالہ طویل بعرصےکے بعد ایک بار پھر شہر کی چھتوں پر دستک دے رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے روایتی پتنگ بازی کو جدید حفاظتی ضوابط کے ساتھ جوڑتے ہوئے لاہور کو تین روز کے لیے رنگ و نور کے جشن کی اجازت دے دی ہے۔

جہاں نوجوانوں کی ایک پوری نسل نے ’بو کاٹا‘ کا شور صرف قصوں کہانیوں میں سنا تھا، وہیں اب لاہور کے بازاروں میں پتنگوں اور ڈور کے پنّوں کی خریداری کا وہ پرانا رش لوٹ آیا ہے۔ ماہرینِ ثقافت کا کہنا ہے کہ بسنت محض ایک کھیل نہیں بلکہ پنجاب کی صدیوں پرانی رت ہے۔

ماضی کی ’خونی ڈور‘ کے تلخ تجربات سے بچنے کے لیے اس بار انتظامیہ نے پتنگ بازی کو سخت قانونی شکنجے میں جکڑ دیا ہے۔شہر کی چھتوں کی نگرانی کے لیے ڈرون کیمروں کا استعمال کیا جائے گا تاکہ ممنوعہ دھاتی ڈور کے استعمال کو روکا جا سکے۔

موٹر سائیکل سواروں کی گردنوں کو محفوظ رکھنے کے لیے 10 لاکھ سیفٹی راڈز کی تنصیب کا ہدف مقرر کیا گیا ، جبکہ جشن کے دنوں میں مفت پبلک ٹرانسپورٹ چلا کر موٹر سائیکلوں کا استعمال کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو رعایت نہیں ملے گی۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ یا جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے۔صرف ان سیلرز سے سامان خریدنے کی اجازت ہے جن کے پاس این او سی (NOC) اور کیو آر کوڈ موجود ہے۔پتنگوں پر سیاسی یا مذہبی شخصیات کی تصاویر چھاپنا سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔