پشاور (رم نیوز) خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن نے صوبے کے تمام خواتین کالجوں میں ویلکم اور فیئرویل پارٹیوں سمیت کسی بھی قسم کی غیر نصابی تقریب کو سخت ترین شرائط سے مشروط کر دیا ہے۔ نئے حکمنامے کے تحت اب کالج انتظامیہ ڈائریکٹوریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر کوئی تقریب منعقد نہیں کر سکے گی۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، خواتین کے کالجوں میں اب رقص، موسیقی، ماڈلنگ اور اس نوعیت کی کسی بھی پرفارمنس پر مکمل پابندی ہوگی۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ تمام تقریبات کو مقامی معاشرتی اقدار اور اسلامی ثقافت کے سانچے میں ڈھالا جانا ضروری ہے۔
طالبات کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر نئے ایس او پیز میں درج ذیل نکات شامل کیے گئے ہیں ۔
کسی بھی تقریب میں طالبات کے لیے سویلین کپڑوں کے بجائے کالج یونیفارم پہننا لازمی ہوگا۔
تقریبات کی ویڈیوز یا تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر سخت پابندی ہوگی۔
قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ سخت فیصلہ 15 جنوری کو جامعہ پشاور میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں ایک ویلکم پارٹی میں طالبات کی 'ریمپ واک' کی ویڈیو وائرل ہونے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔ اس واقعے کے بعد متعلقہ شعبے کے منتظمین کو پہلے ہی شوکاز نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔
اس فیصلے پر طالبات میں ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاں کچھ طالبات اسے تفریحی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے کر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، وہیں طالبات کا ایک بڑا طبقہ اسے تعلیمی وقت کی بچت اور طالبات کے تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم قرار دے رہا ہے۔