بسنت کا تہوار صرف پتنگ بازی تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ موسیقی، ثقافت اور جوش و خروش کا ایک ایسا حسین امتزاج تھا جس کی یادیں آج بھی لاہوریوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔تاہم اس بارآج کل کی نوجوان نسل یعنی جین زی کے لیے بسنت کا مطلب صرف پتنگ بازی نہیں بلکہ ایک "وائب" ہے۔ وہ اس تہوار کی اصل روح سے نابلدہیں لیکن بس اتناجانتے ہیں کہ انہوں نے رنگوں کے ساتھ رنگین ہونا ہے اور بھرپورانجوائے کرناہے۔
نوجوان نسل کے لیے یہ تہواراس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ لگ بھگ دو دہائیوں کے بعد آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سجے گااور موسیقی کا تڑکا بھی ہوگا۔بسنت کے موقع پر پنجاب حکومت کی طرف سے کچھ نازیبا گانوں پر باقاعدہ پابندی بھی لگائی گئی ہے۔ تاہم کچھ سدابہار دوبارہ سننے کوملیں گے۔
بسنت بہار ہواور۔۔۔ پتنگ باز سجنا۔۔۔فریحہ پرویز ۔۔۔کا گانا نہ ہو ۔۔۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔90 کی دہائی کا یہ شاہکار گانا فریحہ پرویز نے گایا تھا۔ اس گیت نے بسنت کی روح کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب بسنت کا تہوار کمرشل ہونا شروع ہوا، تو یہ گانا ہر چھت کی ضرورت بن گیا۔ اس میں لوک موسیقی کی مٹھاس، پاپ کی تیزی اور پتنگ بازی کی شوخی سب کچھ موجود تھا۔
ابرار الحق جنہو ں نے پاپ کو ایک نیا رنگ دیا۔۔بسنت پرانکے گانوں ۔۔۔۔نچ پنجابن۔۔۔بلو دے گھر۔۔۔ میلہ ویکھن آئیاں کڑیاں لاہور دیاں۔۔۔نچ لین دے۔۔۔نہ ہوں۔۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔
لاہور کی بسنت ہو اور اس شہر کی شان میں گایا گیا گانا نہ ہو؟ طارق طافو کا گایا ہوا "لاہور لاہور اے" کئی برسوں سے لاہوریوں کا پسندیدہ رہا ہے اور بسنت پر سناجاتا رہا۔
جان دیو، سانوں گڈیاں اڑان دیو۔۔۔ہ 2000 کے اوائل میں معروف گلوکار ملکو کا یہ گانا بسنت کی پلے لسٹ کا لازمی حصہ بن گیا۔
یہ تمام گیت صرف موسیقی نہیں بلکہ اس دور کی عکاسی کرتے ہیں جب لاہور کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا ہوتا تھا اور فضا "بو کاٹا" کے نعروں اور ان مدھر گیتوں سے گونجتی تھی۔ تاہم اس بار پرانی نسل کے ساتھ ساتھ نئی نسل یعنی جین زی تو بہت زیادہ بے قرار ہیں۔