لاہور(رم نیوز) زندہ دلانِ لاہور کا طویل انتظار ختم ہو گیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے پتنگ بازی پر عائد 25 سالہ پابندی کے خاتمے کے بعد لاہور میں بسنت کا میلہ باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔گذشتہ روز بسنت نائئٹ پر شہر بھر کی چھتیں روشن ہو گئیں اور آسمان رنگ برنگی پتنگوں اور قندیلوں سے بھر گیا۔
صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے تاریخی بھاٹی گیٹ میں ایک چھت پر پتنگ اڑا کر بسنت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سیکیورٹی اور انتظامی امور کا معائنہ کرتے ہوئے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ حفاظتی ضوابط (SOPs) پر عمل کریں تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ حکومت نے اس جشن کے لیے جمعہ سے اتوار تک تین روز کی اجازت دی ہے، جبکہ لبرٹی چوک پر ایک بڑے 'بسنت گالا' کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
نوجوانوں کے لیے یہ زندگی کا پہلا موقع ہے کہ وہ لاہور کی روایتی بسنت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔اوورسیز پاکستانیوں کی آمد: اس تاریخی موقع کا حصہ بننے کے لیے سمندر پار پاکستانی بھی بڑی تعداد میں پہنچے ہیں۔25 سال پہلے کے برعکس، یہ پہلی بسنت ہے جو سوشل میڈیا کے دور میں منائی جا رہی ہے۔ واٹس ایپ، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر میلے کی براہِ راست ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔
اگر یہ تین روزہ میلہ پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوتا ہے، تو حکومت اس کا دائرہ کار دیگر اضلاع تک بڑھانے پر غور کرے گی۔ تاہم، ہوائی فائرنگ اور کیمیکل ڈور جیسے مسائل پر قابو پانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے گا۔