مسقط (رم نیوز) ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر بریک تھرو کے لیے مذاکرات کا اہم دور آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہو رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ اس سفارتی مشن کی سب سے اہم بات امریکی وفد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی موجودگی ہے۔ ان کی شرکت سب کے لیے حیران کن ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ تہران ان مذاکرات میں "مکمل اختیار" کے ساتھ شریک ہو رہا ہے۔ ایران کا مقصد ایک ایسی مفاہمت تک پہنچنا ہے جومنصفانہ اور باہمی طور پر قابلِ قبول ،ایران کے لیے باوقار ہو۔بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے اور اس میں کسی تیسرے علاقائی فریق کو شامل نہ کیا جائے۔یاد رہے کہ یہ مذاکرات پہلے ترکیہ کے شہر استنبول میں شیڈول تھے، تاہم ایران کی خصوصی درخواست اور مطالبے پر ان کا مقام تبدیل کر کے مسقط، عمان منتقل کیا گیا۔ عمان طویل عرصے سے ایران اور مغرب کے درمیان ایک ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔