لندن/لاہور (رم نیوز) آسمان پر اڑتی ہوئی پتنگ کاسفر خاصا طویل ہے۔یہ سفر کہاں سے شروع ہوا یہ کہانی طویل ہے۔دنیا بھر میں تفریح کا ذریعہ سمجھی جانے والی پتنگ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخی شواہد کے مطابق پتنگ کا موجد پاکستان کا پڑوسی ملک چین ہے، جہاں سے یہ فن پوری دنیا میں پھیلا۔
امریکن کائٹ فلائر ایسوسی ایشن اور تاریخی ریکارڈز کے مطابق پہلی ایجاد 450 قبل مسیح میں چینی فلسفی موزی نے لکڑی سے ایک اڑنے والا پرندہ تیار کیا تھا جسے پتنگ کی ابتدائی شکل مانا جاتا ہے۔پتنگ بازی کے سب سے پرانے تحریری شواہد 200 قبل مسیح کے ہیں جو چین میں پائے گئے۔
قدیم چین میں ہان خاندان کے ایک جنرل نے شہر کی دیواروں کی پیمائش اور سرنگوں کی لمبائی ناپنے کے لیے پتنگ کا استعمال کیا تھا۔ملائیشیا اور انڈونیشیا کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ قدیم زمانے میں پتوں اور سرکنڈوں سے بنی پتنگیں ماہی گیری کے لیے استعمال کرتے تھے۔پاکستان اور انڈیا میں پتنگ بازی کی جڑیں مغل دور سے ملتی ہیں۔
1500 عیسوی کی قدیم پینٹنگز میں دکھایا گیا ہے کہ نوجوان اپنی محبوبہ تک پیغام پہنچانے کے لیے پتنگ کا سہارا لیتے تھے۔
تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں پتنگیں یا تو مسلمان تاجر لائے یا پھر چین سے آنے والے بدھ زائرین اپنے ساتھ یہ ہنر لے کر آئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ایک مقبول کھیل بن گیا اور گجرات جیسے علاقوں میں ہندو اور مسلم ثقافتوں کے ملاپ سے بڑے پیمانے پر پتنگ میلے منعقد ہونے لگے۔
13ویں صدی تک چینی تاجروں کے ذریعے یہ فن کوریا، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ تک پہنچ گیا، جس کے بعد ہر ملک نے پتنگوں کے اپنے اپنے منفرد ڈیزائن اور اڑانے کے طریقے وضع کر لیے۔