مذاکرات کی میز اور میزائل کی دہلیز: عباس عراقچی مسقط میں، پاسدارانِ انقلاب ’میزائل سٹی‘ میں متحرک

تہران(رم نیوز) ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے عین درمیان اپنے جدید ترین بیلسٹک میزائل ’خرمشہر 4‘ کا کامیاب تجربہ کر کے اپنی عسکری طاقت کا لوہا منوا لیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے فضائی و خلائی شعبے نے اس میزائل کو پہلی بار ایک وسیع زیرِ زمین تنصیب سے لانچ کیا، جسے تہران کی دفاعی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ’خرمشہر 4‘ کی رینج 2 ہزار کلومیٹر ہے اور یہ 1500 کلوگرام وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میزائل کی رینج اسے خطے میں اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اس موقع پر ایک نئے زیرِ زمین ’میزائل سٹی‘ کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے، جہاں ان میزائلوں کو محفوظ طریقے سے نصب کیا گیا ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اب ان کی عسکری حکمتِ عملی صرف دفاع تک محدود نہیں رہی۔ اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد تہران نے ضرورت پڑنے پر ’پیشگی کارروائی‘ کا اختیار بھی شامل کر لیا ہے، جس کا مقصد دشمن کو حملہ کرنے سے قبل ہی روکنا ہے۔

ایک طرف تہران اپنی عسکری قوت بڑھا رہا ہے، تو دوسری طرف وزیرِ خارجہ عباس عراقچی عمان میں امریکا کے ساتھ ’باوقار جوہری معاہدے‘ کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی حل چاہتے ہیں، مگر اپنی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔