اسلام آباد (رم نیوز)وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی کلاں میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے کی تحقیقات میں سکیورٹی اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران حملے کے مرکزی ماسٹر مائنڈ اور چار سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کی بنیاد پر پشاور اور نوشہرہ میں ٹارگٹڈ چھاپے مارے۔اس شدید کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ تین زخمی ہو گئے۔
گرفتار ہونے والا مرکزی دہشت گرد افغانی نژاد ہے، جو عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کا ماسٹر مائنڈ بتایا جا رہا ہے۔تحقیقات سے یہ سنگین انکشاف ہوا ہے کہ اس بزدلانہ حملے کی تمام تر منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں کی گئی تھی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا نیٹ ورک نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
اس انسانیت سوز واقعے پر عالمی برادری نے پاکستان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ چین، امریکہ، روس، اقوام متحدہ، اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔