کچھ راز ایسے ہوتے ہیں کہ وہ قبر تک تعاقب کرتے ہیں ۔ جیفری ایپسٹین، وہ امریکی فنانسر جس نے اپنی زندگی میں دولت اور اقتدار کا ایک ایسا ہولناک کھیل تخلیق کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ رواں برس 'ایپسٹین فائلز' کی صورت میں ایک بار پھر دنیا کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہوگیا ہے۔ نیویارک کی جیل میں اس کی مشکوک موت کے برسوں بعد، اب لاکھوں دستاویزات اور ویڈیوز اس بھیانک حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہیں کہ کس طرح ایک شخص نے "اخلاقیات" کو روند کر عالمی طاقتوں کو اپنی مٹھی میں کر رکھا تھا۔
ایپسٹین کا سفر نیویارک کے ایک متوسط طبقے سے شروع ہوا جہاں اس نے ریاضی کے استاد کی حیثیت سے اپنی ذہانت دکھائی لیکن اس کی منزل وال سٹریٹ کی وہ بلند و بالا عمارتیں تھیں جہاں ارب پتیوں کے اثاثے سنبھالنے کے بہانے اس نے اثر و رسوخ کی ایک ایسی سیڑھی بنائی جس کی آخری منزل 'لٹل سینٹ جیمز' نامی اس کا نجی جزیرہ تھا۔ جسے دنیا آج "ایپسٹین آئی لینڈ" کے نام سے جانتی ہے، وہ محض ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ انسانی سمگلنگ اور طاقتور شخصیات کی بلیک میلنگ کا وہ مرکز تھا جہاں لڑکیوں کو پیسوں اور مجبوری کے جال میں پھنسا کر لایا جاتا تھا۔
نومبر 2025 میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے فائلوں کو ڈی کلاسیفائی کرنے کی منظوری کے بعد جنوری 2026 تک جو حقائق سامنے آئے ہیں، انہوں نے عالمی نظام کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ ان فائلوں نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرد سوالات کا گھیرا تنگ کر دیا ہے اورایسے رازوں کا تذکرہ کیاجارہا ہے جس کا جواب کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے ان فائلوں کو منظر عام پر لانے کا وعدہ پورا کیا، لیکن ان دستاویزات میں موجود تصاویر اور فلائٹ لاگز نے کئی بااثر سیاستدانوں کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
برطانوی شہزادہ اینڈریو کے لیے یہ فائلیں "سیاسی موت" ثابت ہوئیں۔ انکشافات کے بعد ان سے شاہی القابات کی واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایپسٹین کا جال لندن کے بکنگھم پیلس تک پھیلا ہوا تھا۔ بل گیٹس، ایلون مسک اور سٹیفن ہاکنگز جیسے بڑے ناموں کا مختلف تناظر میں ذکر ہونا یہ بتاتا ہے کہ ایپسٹین کا مقصد صرف جنسی استحصال نہیں بلکہ دنیا کے ذہین ترین دماغوں کو اپنی گرفت میں رکھنا بھی تھا۔
منظر عام پر آنے والی ایک تازہ ویڈیو میں ایپسٹین کا اعتراف کہ "اخلاقیات ایک پیچیدہ موضوع ہے" اور خود کو "پہلے درجے کا مجرم" قرار دینا، اس کے اس تکبر کی عکاسی ہے جو اسے اپنے بااثر دوستوں کی پشت پناہی سے حاصل تھا۔ 2026 میں جاری ہونے والی یہ 30 لاکھ سے زائد دستاویزات صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ اس بوسیدہ نظام کا نوحہ ہیں جہاں طاقت اور پیسہ انسانیت کے قتلِ عام کو چھپانے کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ایپسٹین کا باب اگرچہ بند ہو چکا ہے، لیکن اس کی "ایڈریس بک" میں درج ناموں کے لیے اب احتساب کا وقت شروع ہو چکا ہے۔تاہم اس کے نتائج کے بارے میں تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔