اسلام آباد(رم نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی تحریک انصاف سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران سائفر کیس اور 9 مئی واقعات سے متعلق اہم عدالتی احکامات بھی جاری کیے۔
دوران سماعت وکیل لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی اجازت مانگی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دوسرے فریق کو سنے بغیر اور نوٹس جاری کیے بغیر ایسا کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملاقات سے متعلق درخواست کے قابل سماعت ہونے اور اس کے غیر مؤثر ہونے کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دیاگیا ہے۔ 9 مئی واقعات میں لاہور میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر بھی 3 رکنی بینچ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان درخواستوں پر مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے جہاں سائفر اور 9 مئی جیسے اہم کیسز اب بڑے بینچ کے سامنے جائیں گے، وہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ اب کل کی سماعت سے مشروط ہو گیا ہے۔