نہ جرمانہ ہوگا نہ پابندی، مستقبل میں میگا ایونٹ کی میزبانی بھی ملے گی:بنگلہ دیش کے لیے آئی سی سی کا بڑا ریلیف

لاہور(رم نیوز)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈز کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک اہم اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں بنگلہ دیش کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سے دستبردار ہونے کے باوجود بنگلہ دیش پر نہ تو کوئی مالی جرمانہ عائد ہوگا اور نہ ہی اس کی رکنیت پر کوئی اثر پڑے گا۔

لاہور میں آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی کے مابین ہونے والے مذاکرات کو ’خوشگوار اور مثبت‘ قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) پر کسی بھی قسم کی مالی، انتظامی یا اسپورٹنگ پابندی نہیں لگائی جائے گی۔بنگلہ دیش کی کرکٹ مارکیٹ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے 2028 سے 2031 کے درمیان ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی دی جائے گی۔

آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ بنگلہ دیش کو ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی سے رجوع کرنے کا حق حاصل رہے گا۔آئی سی سی نے 20 کروڑ سے زائد کرکٹ شائقین کے حامل ملک بنگلہ دیش کو عالمی کرکٹ کا اہم ترین ستون قرار دیا ہے۔ کونسل نے بنگلہ دیشی ٹیم کی جاری ورلڈ کپ میں عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں کرکٹ کا مستقبل تمام سٹیک ہولڈرز کے اتحاد سے جڑا ہے۔

یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہونے اور بائیکاٹ کی دھمکی کے بعد سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے اصولی موقف اور سفارتی دباؤ کے نتیجے میں آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے خلاف سخت رویہ اپنانے کے بجائے مفاہمت کی راہ اختیار کی، جس کے بعد خطے میں کرکٹ پر چھائے غیر یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں۔