اسلام آباد(رم نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر میں سولر اور دیگر صاف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین کے لیے 2015 کے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کو ختم کر کے 'نیٹ بلنگ' کا نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کی خرید و فروخت کے نظام کو جدید بنانا اور گرڈ کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
نئے نظام کے تحت اب ایک میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے والے گھریلو اور صنعتی صارفین کو 'پروسیومر' کا درجہ دیا جائے گا، جو اپنی ضرورت کے بعد بچ جانے والی اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کر سکیں گے۔ اب صارفین سے اضافی بجلی 27 روپے کے بجائے نیشنل ایوریج ٹیرف (بجلی کی قومی اوسط قیمت) پر خریدی جائے گی۔نئے معاہدوں کی مدت کو محدود کر کے 5 سال کر دیا گیا ہے، جس کے بعد فریقین کی رضامندی سے مزید 5 سال کی تجدید ممکن ہو سکے گی۔
اضافی بجلی کی قیمت ہر بلنگ سائیکل کے اختتام پر ایڈجسٹ کی جائے گی۔ اگر صارف کی رقم زیادہ بنی تو وہ اگلے بل میں منتقل ہوگی یا سہ ماہی بنیادوں پر ادا کی جائے گی۔ گرڈ کے استحکام کے لیے وولٹیج اور فریکوئنسی کی حدود برقرار رکھنا لازمی ہوگا، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بجلی کمپنی کنکشن منقطع کرنے کی مجاز ہوگی۔نیپرا کے اعلامیے کے مطابق، وہ صارفین جن کے معاہدے پہلے سے موجود ہیں، وہ اپنی مقررہ مدت ختم ہونے تک پرانے نظام کے تحت ہی چلیں گے۔ تاہم، مدت ختم ہونے کے بعد ان کی تجدید نئے 'نیٹ بلنگ ریگولیشنز' کے تحت کی جائے گی۔