ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو سخت کارروائی ہوگی، مزید فوجی دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کسی نئے معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو امریکہ سخت فوجی کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے پیشِ نظر خطے میں اضافی فوجی دستوں اور ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کا اشارہ دے دیا ہے۔

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ خطے میں دوسرے بحری بیڑے کی تعیناتی پر مشاورت جاری ہے۔ واضح رہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن اپنے سٹرائیک گروپ، ٹوما ہاک میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کے ساتھ پہلے ہی وہاں موجود ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو بھی ایران کے ساتھ ایک (جامع) معاہدے کے خواہاں ہیں، تاکہ خطے میں سکیورٹی خدشات کو ختم کیا جا سکے۔

صدر نے واضح کیا کہ امریکہ مذاکرات کے حق میں ہے، لیکن معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں فوجی طاقت کا استعمال خارج از امکان نہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فوجی دباؤ میں یہ اضافہ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور سخت شرائط منوانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔