غزہ سٹی(رم نیوز) غزہ میں صیہونی جارحیت کے دوران ممنوعہ امریکی تھرمو بیرک بموں (ویکیوم بم) کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 3000 فلسطینیوں کے اجسام شدید تپش کے باعث راکھ بن کر فضا میں بکھر گئے ہیں۔سول ڈیفنس حکام اور ماہرین نے ان ہتھیاروں کے استعمال کو انسانیت کے خلاف بدترین جنگی جرم قرار دیا ہے۔
ان بموں سے 3500 ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت پیدا ہوتی ہے، جو انسانی ہڈیوں اور گوشت کو سیکنڈوں میں بخارات اور راکھ میں تبدیل کر دیتی ہے۔غزہ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود باسل کے مطابق، بمباری کے بعد جب ٹیمیں متاثرہ گھروں میں پہنچتی ہیں تو وہاں مقیم افراد کی تعداد کے مقابلے میں انسانی باقیات کا نام و نشان تک نہیں ملتا، جس سے ہلاک شدگان کی شناخت ناممکن ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ کی جانب سے فراہم کردہ یہ مہلک اسلحہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، مگر عالمی نظامِ انصاف غزہ کے اس امتحان میں مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، ان بموں کا مقصد نہ صرف عمارتوں کو تباہ کرنا ہے بلکہ یہ اپنے ارد گرد کی تمام آکسیجن کھینچ کر زندہ انسانوں کے وجود کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔