اسلام آباد (رم نیوز) نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو مستحکم کرنے اور شناخت کی محفوظ تصدیق کے لیے اپنی نئی سہولت ’نشان پاکستان‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں کے لیے شناختی تصدیق کے عمل کو تیز، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے۔
نادرا ترجمان کے مطابق یہ سہولت نادرا آرڈیننس 2000 اور نادرا ریگولیشنز 2026 کے قانونی فریم ورک کے تحت تیار کی گئی ہے، جو پاکستان میں ای،گورننس کے خواب کو حقیقت بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ماضی میں شناختی تصدیق کے لیے اداروں کو طویل دستاویزی کارروائی اور بار بار منظوری کے مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔ اب ’نشان پاکستان‘ ویب پورٹل کے ذریعے تمام ریگولیٹڈ ادارے ایک ہی پلیٹ فارم پر آن لائن رجسٹریشن اور سبسکرپشن کر سکیں گے۔ اس پورٹل کے ذریعے بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو انگلیوں کے نشانات (بائیومیٹرک)، چہرہ شناسی (فیشل ریکگنیشن)، اور ’پروف آف لائف‘ جیسی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
نادرا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس نظام کے تحت شہریوں کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ رہے گا اور رازداری کے اعلیٰ ترین عالمی معیارات کو برقرار رکھا جائے گا۔ یہ منصوبہ حکومتِ پاکستان کے ’ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ‘ (DEEP) کا حصہ ہے، جو مالی شمولیت اور سماجی بہبود کے پروگراموں میں شفافیت لانے کے لیے ناگزیر ہے۔اس نئی سہولت سے نہ صرف بینکنگ اور دیگر کاروباری لین دین میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ ڈیجیٹل نظام پر شہریوں کا اعتماد بھی بڑھے گا، جو ایک مستحکم ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ہے۔