اسلام آباد (رم نیوز) نیپرا نے سولر صارفین کے لیے ’نیٹ بلنگ‘ کا نیا ضابطہ متعارف کروا دیا ہے جس نے بجلی کے بلوں میں بچت کا روایتی طریقہ کار بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت اب صارفین کی جانب سے گرڈ کو دی جانے والی بجلی اور وہاں سے لی جانے والی بجلی کا حساب یونٹس کے بجائے رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اب تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) صارفین سے ان کی اضافی بجلی قومی اوسط قیمت یعنی تقریباً 11 روپے فی یونٹ میں خریدیں گی، جبکہ ضرورت کے وقت وہی صارف گرڈ سے 40 سے 50 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدنے پر مجبور ہوگا۔ نئے قواعد کے تحت اب کوئی بھی صارف اپنے منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load) سے زیادہ کا سولر سسٹم نہیں لگا سکے گا۔
اس اقدام کا مقصد صارفین کو ضرورت سے زیادہ بجلی بنا کر گرڈ کو بیچنے سے روکنا ہے۔ صارف کی فراہم کردہ بجلی کی رقم اس کے ماہانہ بل سے منہا کی جائے گی۔ اگر فراہم کردہ بجلی کی قیمت بل سے زیادہ ہو، تو یہ رقم اگلے مہینے منتقل کر دی جائے گی یا ہر تین ماہ بعد ادا کی جائے گی۔ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین اپنے معاہدے کی مدت (7 سال) ختم ہونے تک محفوظ رہیں گے، تاہم معاہدے کی تجدید کے وقت انہیں لازمی طور پر نیٹ بلنگ کے اس نئے اور مہنگے نظام پر منتقل ہونا پڑے گا۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے حکومت کا مقصد گرڈ سے بجلی کی کھپت بڑھانا ہے، تاہم خدشہ ہے کہ لوگ اب ہائبرڈ سسٹم (بیٹریوں) کی طرف چلے جائیں گے تاکہ وہ اپنی بجلی خود محفوظ کر سکیں اور مہنگے گرڈ سے چھٹکارا پا سکیں۔